Wednesday, 23 November 2016

٢ تواریخ ١٤:٧ پر آیتی واعظ


تب اگر میرے لوگ جو میرے نام سے کہلاتے ہیں خاکسار بن کر دُعا کریں اور میرے دِیدار کے طالِب ہوں اور اپنی بُری راہوں سے پِھریں تو مَیں آسمان پر سے سُن کر اُن کا گُناہ مُعاف کرُوں گا اور اُن کے مُلک کو بحال کر دُوں گا


                                  آیت کا تعارف اور پس منظر                  

۲ تورا یخ  کے ۲ باب میں سلیمان بادشاہ یروشلیم میں ہیکل تعمیر کرنے کا منصوبہ بناتا ہے، اور یہ منصوبہ باب ۶ میں تکمیل کو پہنچتا ہے۔ اس موقع پر سلیمان بنی اسرائیل کے سامنے ہیکل کی مخصوصیت کرتا ہے۔ چھٹے باب میں موجود ہیکل کی مخصوصیت کی دعا کا جواب خداوند خدا باب ۷ میں دیتا ہے۔

 خصوصاَ ہماری مرکزی آیت  ۶ باب اور اسکی ۲۶ اور ۲۷ آیات میں درج سلیمان کی دعا کا جواب ہے، جہاں لکھا ہے: "اور جب اس سبب سے کہ انہوں نے تیرا گناہ کیا ہو آسمان بند ہوجائے اور بارش نہ ہو اور وہ اس مقام کی طرف رخ کر کے دعا کریں اور تیرے نام کا اقرار کریں اور اپنے گناہ سے باز آیئں جب تو انکو دکھ دے۔   تو تو آسمان پر سے سنکر اپنے بندوں اور اپنی قوم بنی اسرائیل کا گناہ معاف کر دینا کیونکہ تو نے انکو اس اچھی راہ کی تعلیم دی جس پرانکو چلنا فرض ہے اور اپنے ملک پر جسے تونے اپنی قوم  کو میراث کے لئے دیا ہے مینہ برسانا۔۔۔۔"

اور اس دعا کا جواب خدا ۱۴:۷ میں دیتا ہے، جو ہماری مرکزی آیت ہے۔ ہم اس آیت کی مدد 
سے کئی موضوعات اخز کر ستکے ہیں، جیسے خاکساری کے ساتھ دعا یا پھر خدا کے لوگوں کی بحالی۔ لیکن ہم اس آیت کے تمام قلیدی الفاظ پر غور کرینگے، اور اسی کے مطابق اس واعظ کی تقسیم ہوگی۔


لفظ ‘‘تب’’ کی تشریح

۲ تواریخ  ۱۴:۷ لفظ 'تب' سے شروع ہوتی ہے، جو کہ ایک متعلق فعل ہے (adverb)، اور "تب اگر" مشروط فعل ہے (conditional tense) ۔ یعنی جن باتوں کا تذکرہ اس آیت میں ہوا ہے ان کا کسی خاص وقت   اور حالات سے تعلق ہے۔ خدا کس وقت اپنے لوگوں کو بحال کرتا ہے؟ اس کے لئے ہم آیت ۱۳ دیکھں گے:

 "اگرمیں آسمان کو بند کردون کہ بارش نہ ہو یا ٹڈیوں کو حکم دوں کہ ملک اجاڑ ڈالیں یا 
"اپنے لوگوں کے درمیان وبا بھیجوں۔
یعنی  جب بنی اسرائیل پر قدرتی آفات آیئنگی ، تب اگر وہ قومی سطح پر توبہ کریں اور دعا 
کرینگے، تو خدا انکے ملک کو بحال کریگا۔ لہذا اس دعا کے لئے ایک وقت متعین ہے۔ یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا کیوں اپنے لوگوں پر قدرتی آقات بھیجتا ہے؟ اس کا جواب ہمیں سلیمان کی دعا میں ملتا ہے جو ۲۶:۶ باب  میں درج ہے۔ اس آیت سے پتا چلتا ہے کہ یہ آفات بنی اسریئل کے گناہ کے سبب اس آتی تھیں۔ پرانے عہدنامے میں قدرتی آفات کا تعلق براہ راست گناہ کے ساتھ ہے (استثنا ۱۱:۱۰ـ۱۵ احبار ۹:۲۰، ا سلاطین ۱)۔  کیونکہ بنی اسرئیل سے خدا نے عہد باندھا تھا، تو نافرمانی کی سزا قدرتی آفات کی صورت میں پہلے سے شرائط میں موجود تھی۔ لیکن آج جو قدرتی آفات آتی ہیں، ضروری نہیں کے ہم انکا تعلق گناہ سے جوڑیں۔

اب جب ہم سیکھ چکے ہیں کہ دعا کا ایک خاص وقت ہے، لیکن یہ دعا کریگا کون؟


خدا کے لوگ

یہ دعاخدا کے لوگ کرینگے۔ اس آٰیت میں خدا کہتا ہے کے وہ اپنےلوگوں کو معاف کریگا اور انکو بحال کریگا جو اسکے نام سے کہلاتے ہیں۔ اس کی قوم گناہ بھی کردے، تب بھی وہ اسے اپنا کہتا ہے۔ 

 خدا کے لوگ وہ ہیں جن کو اسنے چنا ہے۔ پرانے عہدنامہ میں خدا نے بنی اسرائیل کو چنا، اور نئے عہدنامہ میں کلیسیا کو۔ لیکن کلیسیا کا چناو بانئے عالم سے پیشتر ہے (افسیون ۴:۱)۔ ہم یہ بھی سیکھتے ہیں کے خدا کا چناو اجتماعی ہے، چاہے وہ  پرانے عہدنامہ 
        میں ہو یا نئے میں۔
. اور یہ بلاوہ  بنی اسرایل  سے شروع  ہوکر کلیسیا میں سو ہوتا ہوا تمام دنیا میں پھیلتا ہے

خاکسری کے ساتھ دعا

اس آیت میں ۴ باتیں درج ہیں، جنکا تقاضہ خدا اپنے لوگوں سے کرتا ہے اور جن کے وسیلہ خدا انکو معاف کریگا اور بحال کریگا۔ جب آسمان بند ھو جائگا اور بنی اسریئل کو یہ معلوم ہو جائگا کہ یہ انکے گناہ کے باعث ہوا ہے، تو اب انہیں یہ چار کام کرنے ہیں، یعنی خاکسار بننا، دعا کرنا، خدا کے دیدار کے طالب ہونا، اور اپنی بری راہوں سے پھرنا۔ ویسے تو ان چاروں باتوں کو ہم 'توبہ' کے عنوان کے تحت اکھٹا کر سکتے ہیں۔ لیکن ہم انکو الگ الگ کرکے دیکھیں گے۔

۱۔ خاکسار بننا
خدا نے بنی اسرائل کو اس آیت میں اپنے لوگ کہا ہے، جو اسکے نام سے کہلاتے ہیں۔  وہ کلیسیا کو بھی اپنا کہتا ہے۔ خداوند کی طرف سے یہ چناو اور اسکا دیا ہوا یہ منسب اسکے لوگوں میں غرور اور تکبر پیدا کر سکتا ہے، اور انکو اپنی گناہ کی حالت میں آسودہ خاطر بنا سکتا ہے۔ چنانچہ، جیسے ہی اسنے انہیں اپنے لوگ کہا، اس کے ساتھ فوراَ ہی انکو خاکسار بننے کا حکم یا۔   یہ خداوند خدا کے آگے خود کو پست کرنے کی بات ہے، جسکی مثال  ہمیں بائبل میں ٹاٹ اوڑھنے  یا خاک پر بیٹھنے کی صورت میں ملتی ہے، اور اسی سے ہم اگلے نقطہ پر چلتے ہیں۔

۲۔ دعا کرنا
دعا کرنے کے لئے خاکساری بہت ضروری ہے، کیونکہ دعا خدا سے کچھ مانگنے کا نام نہیں، بلکہ اس کے ساتھ تعلق قائم رکھنے کی بات ہے۔ دعا اس بات کا اعتراف ہے کہ ہم خدا کی ذات پر کامل یقین رکھتے ہیں، بلکہ ہماری حیات اس پرہی منحصر ہے۔  یہ حقیقت خداوند یسوع مسیح کی دعایہ زندگی میں نظر آتی ہے، جسنے اپنی پوری زندگی اپنے باپ کے سپرد کردی تھی۔ اسکی سکھائی ہوئی دعا میں یہی بات نظر آتی ہے ک خدا ہی ہماری ہر جسمانی اور روحانی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ اور گتسمنی کی دعا کہ 'تو بھی نہ جیسا میں چاہتا ہوں بلکہ جیسا تو چاہتا ہے ویسا ہی ہو۔۔۔ـ" بھی اسی بات کو واضح کرتی ہے۔ اور اسی کے ساتھ ہم اپنے اگلے نقطہ پر آتے ہیں۔

۳۔ دیدار کے طالب ہونا
بیشک دعا کے وسیلہ ہم خدا سے جسمانی اور روحانی برکات حاصل کرتے ہیں۔ لیکن ایماندار کے لئے عبادت کا بنیادی مقصد یہ  آرزو ہے کہ وہ خدا کو دیکھے۔ خدا اس دنیا میں ہمیں نعمتیں مہیہ کرتا ہے، لیکن ایمانداروں کو کامل اطمنان صرف خدا کی حضوری میں ملتا ہے، نہ کہ اسکی دی ہوئی چیزوں میں۔خدا کے دیدار کی خواہش ایک پاک دل سے نکلتی ہے۔  یسوع مسیح نے فرمایا: "مبارک ہیں وہ جو پاک دل ہیں، کیونکہ وہ خدا کو دیکھیں گے" (متی ۸:۵)۔ اسی لئے خدا کے دیدار کے لئے بنیادی شرط ہے پاک دل ہونا، یعنی اپنی بری راہوں سے پھرنا، اور یہی ہمارا اگلا نقطہ ہے۔

۴۔ بری راہوں سے پھرنا
توبہ کامطلب ہی یہی ہوتا ہے کہ ہم اپنی بری راہوں سے پھریں۔ یاد رہے کے بائبل میں توبہ ہمیشہ خصوصی گناہوں کے لئے ہوتی ہے۔ بائبل میں جب بھی توبہ کی اپیل دی گئی ہے، تو اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کے برے کاموں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ مثلاَ جب پطرس رسول کہتا ہے کہ "توبہ کرو اور رجوع لاو تاکہ تمہارے گناہ مٹائے جایئں۔۔۔۔۔۔۔" (اعمال ۳:۱۹)تو اس کے پس منظر میں یسوع کا انکار کرنا اور اسکو مصلوب کرنے کے گناہ کی نشاندہی کی گئ ہے۔  لہذا، توبہ تب ہوتی ہے جب ہم اپنے گناہوں کا نام لے کر اقرار کرتے ہیں 
اور ان کاموں کو پھر نہیں دہراتے۔

جب خدا کے لوگ یہ سب کچھ کرتے ہیں، توخدا بھی اسی طریقہ سے انکو جواب دیتا ہے۔

۱۔ خدا آسمان پر سے انکی دعا سنتا ہے۔ اس سے مراد کوئی جغرافیائی مقام نہیں، کہ خدا واقع آسمان پر رہتا ہے اور دنیا کے معملات سے بے نیاز ہے۔ نہیں۔  خدا کا آسمان میں ہونا اسکی پاکیزگی کی علامت ہے (یسعیاہ ۹:۵۵)، اور خدا توقع کرتا ہے کہ جیسا وہ پاک ہے، اسکے ماننے والے بھی پاک ہوں۔ یسوع نے فرمایا " تم کامل ہو کیونکہ تمہارا آسمانی باپ کامل ہے"۔ اسنے یہ بھی فرمایا کہ 'پاک چیز کتوں کو نہ دو۔۔'، جس کا مطلب ہے پاکی اور ناپاکی کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ تو اگر ہم خدا سے اچھی چیزوں کی توقع رکھتے ہیں، تو ضروری ہے کے ہم پاک بنیں۔

۲۔ اسکے بعد خدا اپنے لوگوں کے گناہ معاف کرتا ہے۔ پرانہ عہدنامہ میں ایک تسلسل ہمیں نظر آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا کے لوگ گناہ میں گرتے ہیں، پھر خدا انکو سزا دیتا ہے (جیسے وبا یا اسیری)، پھر وہ لوگ توبہ کرتے ہیں اور خدا انکو معاف کرتا ہے اور انکو بحال کرتا ہے۔ انہیں خوشحالی بھی بخشتا ہے۔ یہ سلسلہ اسی لئے جاری رہا کیونکہ خوشحال ہوتے ہی بنی اسرایئل خدا کو بھول کر دوسرے معبودوں کی پرستش اور اس سے ملتے جلتے گناہوں میں پڑ جاتے تھے۔ لیکن یہ خدا کی شفقت اور مہربانی ہے کہ وہ انکوہمیشہ معاف کرتا ہے۔ یہ شفقت اور مہربانی اور بھی بھر پور انداز میں ہمیں نئے عہد نامہ میں نطز آتی ہے جہاں پر یسوع گنہگاروں کے لئے اپنی جان صلیب پر دیتا ہے اور اپنے بدن اور خون سے ایک نیا عہد باندھتا ہے، جسکی بنیاد ہمیں یرمیاہ ۳۱:۳۱ میں ملتی ہے۔

۳۔آخر میں جب خدا اپنے لوگوں کو معاف کرتا ہے، تو وہ انکے ملک کو بحال کرتا ہے۔ اور یہاں ہمہں یہ سوچنا ہے کہ یہ بحالی در حقیقت ہے کیا۔ ہم اس پر تھوڑٓا وقت گزاریں گے۔


زمین کی بحالی

یاد رہے کہ اس پوری آیت کا پس منظر ہیکل کی مخصوصیت ہے، اور یہ دعا جو خدا کے لوگ اپنی بحالی کے لئے کریئنگے جیسا خدا نے انکوحکم دیا، تو یہ دعا ہیکل کی طرف رخ کر کے ادا ہوگی، جو یروشلیم میں ہے (۲ تواریخ ٢٦:٦، ١٥:٧)۔

اور اس باب میں ہی خدا نے بنی اسرائیل کے لئے سزا بھی مقرر کی ہے اگر وہ بحالی کے بعد پھر گناہ کریں اور اس سزا کا ذکر ۱۹ آیت میں ہے، کہ خدا انکو انکے ملک سے نکال پھینکے گا۔ لہذا ہم سیکھتے ہیں کہ اس بحالی کا وعدہ براہ راست قوم بنی اسرایئل کے ساتھ ہے اور یہ بحالی اور کچھ نہیں بلکہ انکے ملک کی اجاڑ حالت کا سدھرنا ہے۔ بحالی کے لئے جو عبرانی لفظ یہاں استعمال ہوا ہے (רָפָא)، اسکے معنی شفا کے ہیں۔ لغت میں بھی بحالی کے لئے کئ معانی درج ہیں، جیسے اپنی پرانی حالت میں واپس لانا یا صحت بخشنا۔ تو جس بحالی کا ذکر اس آیت میں ہوا ہے، وہ زمین کی بحالی ہے، یعنی خدا آسمان کو کھول دیگا اور انکی فصلوں کو پھر سے انکے لئے اگائے گا۔

اور انکا ملک اجاڑ بھی اسی وجہ سے ہوا تھا، کہ خدا نے انکے ساتھ  ایک عہد باندھا تھا اور اسی لئے انکے ملک کی ترقی یا بربادی کا تعلق اس عہد کی پاسداری سے تھا۔ لیکن آج ہم جن ممالک میں رہتے ہیں، ان کے ساتھ خدا نے کوئی عہد نہیں باندھا جیسا اسنے بنی اسرایئل کے ساتھ کیا تھا۔


ہم عام طور پر اس آیت کا اطلاق Pray for Pakistan یا   National Day of Prayer کی عبادتوں میں کرتے ہیں۔ لیکن اس آیت کا تعلق براہ راست قوم بنی اسرائیل سے اور ہیکل سے ہے۔ عبرانیوں ١٦:١١ کے مطابق ہمارا ملک تو ایک آسمانی ملک ہے جہاں پر خدا اپنے لوگوں کے ساتھ ہمیشہ رہے گا۔ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کے ہم پاکستان کو اپنا ملک نا سمجھیں اور اس کے لئے دعا نا کریں۔ مسیحی لوگ اگر پاک ہوں اور خاکساری کے ساتھ دعا کریں تو ضرور اپنے شہر اور اپنے ملک کے لئے برکت کا باعث بن سکتے ہیں۔

لیکن زمین سے زیادہ اگر ہم خدا کے لوگوں کی بحالی کی بات  کریں، تو اس کا اطلاق کلیسیا پر ضرور ہوتا ہے۔ جس خدا نے بنی اسرایئل کو بار بار معاف کیا، وہ آج ہمیں بھی معاف کرنے اور بحال کرنے کے لئیے تیار یے (۱ یوحنا ۹:۱، ١:٢ سے ۲)۔  اسی لئے ضروری ہے کہ کلیسیا میں بشارتی کام جاری رہے اور اسی طرح بحالی کا عمل بھی جاری رہے۔

عزیزوں! ہم نے سیکھا کہ بحالی کا عمل خدا کے لوگوں کے لئے ہمیشہ جاری ہے، بشرط کہ وہ خاکساری کے ساتھ توبہ کریں اور پاکیزہ زندگی بسر کریں۔ ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہم بطور کلیسیا خدا کے لوگ ہیں جو اسکے نام سے کہلاتے ہیں۔ اور اسی لئے ہمیں اپنی بحالی کے لئے خدا کے دیدار کے طالب ہونے کی ضرورت ہے، نہ کہ بیرونی امداد یا سیاسی تعلقات کی۔ ہمیں  اپنی ہدایت کے لئے صرف اور صرف یسوع مسیح کی ذات کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ 

خادموں کو چاہئے کے وہ دلیری اور دیانت داری کے ساتھ لوگوں کے گناہوں کی نشاندہی کریں اور توبہ کی تلقین کریں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کے کلیسیا میں بحالی آئے، تو ہمیں نام لے کر اپنے گناہوں سے توبہ کرنی ہوگی، پھر چاہے وہ کرپشن ہو یا زناہ کاری، یا پھر سیاستیں اور افوایئں۔ ایسا کرنے سے بحالی آئگی۔ آمین۔


There was an error in this gadget